جدید اسٹریٹجک دفاع کی دنیا میں، سمندر کی سطح کو چیرتے ہوئے باہر نکلنے والے بیلسٹک میزائل (SLBM) سے زیادہ حیرت انگیز اور خوفناک منظر شاید ہی کوئی ہو۔
اوپر دی گئی تصویر میں اسی سنسنی خیز لمحے کو قید کیا گیا ہے، جہاں ایک وزنی میزائل پانی سے باہر نکلتے ہی اپنے سالڈ فیول راکٹ موٹر کو اسٹارٹ کرتا ہے اور نیلے آسمان کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ نیچے موجود آبدوز (Submarine)، جس پر اس کے ملک کا پرچم لہرا رہا ہے، پانی کے اندر مکمل طور پر پوشیدہ رہتی ہے اور دنیا کے پیچیدہ ترین دفاعی ہتھیار کو کامیابی سے لانچ کر دیتی ہے۔
لیکن پانی کے اندر سے یہ لانچنگ کیسے ہوتی ہے؟ اور عالمی دفاعی توازن میں اس صلاحیت کو اس قدر اہم کیوں مانا جاتا ہے؟
۱۔ "کولڈ لانچ" (Cold Launch) کی سائنس
پانی کی گہرائی سے ایک بہت بڑے بیلسٹک میزائل کو فائر کرنا انجینئرنگ کا ایک غیر معمولی چیلنج ہے۔ اگر میزائل کا اپنا راکٹ انجن آبدوز کے اندر ہی اسٹارٹ ہو جائے، تو اس کی شدید گرمی اور دباؤ پوری آبدوز کو فوری طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔
اس خطرے سے بچنے کے لیے بحریہ "کولڈ لانچ" کی تکنیک استعمال کرتی ہے:
پانی سے اخراج: سب سے پہلے، انتہائی کمپریسڈ گیس یا اسٹیم جنریٹر کے ذریعے میزائل کے نیچے دباؤ کا ایک بڑا بلبلا بنایا جاتا ہے، جو میزائل کو ٹیوب سے باہر اور پانی کے اوپر دھکیلتا ہے۔
پانی کی سطح پر آمد: میزائل پانی کے اندر سفر کے دوران گیس کے ایک حفاظتی غلاف میں لپٹا رہتا ہے تاکہ پانی کی رگڑ (friction) کو کم سے کم کیا جا سکے۔
پہلے مرحلے کا آغاز: جب میزائل پانی سے مکمل طور پر باہر نکل کر آبدوز سے محفوظ فاصلے پر پہنچ جاتا ہے، تب اس کا مین راکٹ انجن فائر ہوتا ہے۔ تصویر میں نظر آنے والا سفید دھوئیں کا بادل اور آگ کا شعلہ اسی سیکنڈ کا نتیجہ ہے۔
۲۔ سیکنڈ اسٹرائیک (Second-Strike) کی حتمی صلاحیت
دفاعی حکمتِ عملی کے تحت، میزائلوں کو زمین، ہوا اور سمندر تینوں جگہوں سے چلایا جا سکتا ہے۔ زمین پر موجود میزائل سائلوز (Silos) کے مقامات سیٹلائٹ کے ذریعے معلوم کیے جا سکتے ہیں، اور جنگی طیاروں کو بھی فضا میں روکا جا سکتا ہے۔ لیکن سمندر کی گہرائیوں میں چھپی بیلسٹک میزائل آبدوزوں (SSBNs) کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
متحرک اور پوشیدہ ہونے کی وجہ سے یہ آبدوزیں کسی بھی ملک کو "سیکنڈ اسٹرائیک" کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی دشمن ملک کے حملے میں زمین پر موجود تمام دفاعی نظام تباہ بھی ہو جائیں، تب بھی سمندر میں چھپا یہ بحری بیڑہ دشمن کو تباہ کن جوابی کارروائی کا نشانہ بنانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا نفسیاتی دفاع مانا جاتا ہے۔
۳۔ دھوئیں کے پیچھے چھپی جدید ٹیکنالوجی
تصویر میں نظر آنے والا گھنا دھواں اس بے پناہ طاقت کا ثبوت ہے جو اس میزائل کو زمین کے مدار (low-Earth orbit) تک پہنچانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ جدید دور کے یہ میزائل (SLBMs) نہ صرف گائیڈنس سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں بلکہ ان میں ایک سے زیادہ ایٹمی ہتھیار (MIRVs) لے جانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے، جو فضا میں پہنچ کر الگ الگ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
جیسے جیسے بحری ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، دنیا بھر کی افواج ان میزائلوں کی رینج، درستگی اور رفتار کو مزید بہتر بنا رہی ہیں تاکہ وہ دشمن کی نظروں سے اوجھل رہ کر ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکیں۔
جدید دفاعی حکمتِ عملی میں بحری اور آبدوز ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں۔
