2026LHC3741-Suit instituted under Section 77 of the Registration Act 1908, Contract act 1872

 کیا جائیداد کے اصل مالک کی وفات کے بعد بھی اس کا مختارِ عام (پاور آف اٹارنی ہولڈر) اس کی جائیداد کسی کو

2026LHC3741-Suit instituted under Section 77 ,201of the Registration Act, 1908

2026LHC3741-Suit instituted under Section 77 ,201of the Registration Act, 1908

بیچ کر رجسٹری کروا سکتا ہے؟

لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹریشن ایکٹ کے ایک انتہائی اہم اور باریک مقدمے میں اس قانونی نکتے کو بالکل شیشے کی طرح صاف کر دیا ہے، جو ہر خریدار اور جائیداد کے کاروبار سے وابستہ شخص کے لیے جاننا لازمی ہے۔

کیس کی تفصیل کچھ یوں تھی کہ ایک شخص (خورشید شاہ) نے 1984ء میں جائیداد کا مختارنامہِ عام (General Power of Attorney) ایک بندے کے نام جاری کیا۔ تقریباً 19 سال بعد، 30 جنوری 2003ء کو اس مختارِ عام نے وہ جائیداد چند خریداروں کے نام بیچی اور رجسٹری کے لیے سب رجسٹرار ڈسکہ کے پاس پیش کر دی۔ سب رجسٹرار نے جب تصدیق کروائی تو پتا چلا کہ اصل مالک (موکل) وفات پا چکا ہے۔ سب رجسٹرار نے یہ کہہ کر رجسٹری سے انکار کر دیا کہ "مالک کے مرتے ہی مختارنامہ ختم ہو جاتا ہے۔" خریداروں نے اس انکار کے خلاف رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ یہ کیس اپیل در اپیل ہوتا ہوا جب لاہور ہائیکورٹ پہنچا، تو عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ الٹتے ہوئے چند زبردست قانونی اصول وضع کیے:
1۔ مالک کی موت اور مختارنامے کا خاتمہ (Section 201 Contract Act):
عدالت نے قانونِ معاہدہ (Contract Act, 1872) کی دفعہ 201 کے تحت صاف رولنگ دی کہ جیسے ہی کسی مختارنامہ دینے والے (Principal) کا انتقال ہوتا ہے، اس کا دیا ہوا تمام تر قانونی اختیار (Agency) اسی سیکنڈ خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ مالک کی موت کے بعد مختارِ عام محض ایک عام انسان رہ جاتا ہے، وہ جائیداد منتقل کرنے یا رجسٹری پر دستخط کرنے کا کوئی قانونی مجاز نہیں رہتا۔ اس کی طرف سے کیا گیا ایسا ہر عمل قانون کی نظر میں بالکل باطل اور کالعدم (Void) ہے۔
2۔ سب رجسٹرار کا دائرہ اختیار اور فرض:
خریداروں کا مؤقف تھا کہ جب بیع نامہ پیش کیا گیا، مالک اس وقت زندہ تھا اور رات کو فوت ہوا۔ ہائیکورٹ نے ریکارڈ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا جائزہ لے کر ثابت کیا کہ وہ صبح ہی فوت ہو چکے تھے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعات 32 اور 34 کے تحت سب رجسٹرار کا یہ قانونی فرض ہے کہ وہ جائیداد بیچنے والے کی اہلیت اور اختیار کی جانچ پڑتال کرے، اس لیے سب رجسٹرار کا رجسٹری روکنا اور تصدیق کروانا بالکل قانون کے مطابق تھا۔
3۔ دفعہ 77 کے تحت دعویٰ کا محدود دائرہ:
لاہور ہائیکورٹ نے ایک بہت اہم تکنیکی نکتہ سمجھایا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت ہونے والے مقدمے کا دائرہ اختیار بہت محدود ہوتا ہے۔ اس میں عدالت صرف یہ دیکھتی ہے کہ رجسٹرار کا رجسٹری سے انکار درست تھا یا غلط۔ اس مقدمے میں جائیداد کی اصل ملکیت، عنوان (Title)، یا معاہدے کے سچے جھوٹے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
خریداروں کے لیے اب اگلا قانونی راستہ کیا ہے؟
عدالت نے خریداروں کو مایوس کرنے کے بجائے ان کے لیے قانون کا ایک اور دروازہ کھولا ہے۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دفعہ 77 کے تحت مقدمہ ہارنے سے خریداروں کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ جائیداد کے اصل خریدار ہیں اور انہوں نے رقم ادا کی ہے، اس لیے وہ مرحوم مالک کے قانونی ورثاء کے خلاف "تعمیلِ مختص" (Specific Performance of Contract) کا علیحدہ سے دیوانی دعویٰ دائر کر سکتے ہیں، جہاں وہ اپنے پیسے اور سودے کو ثابت کر کے جائیداد حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ سکھاتا ہے کہ جائیداد کے معاملات میں کاغذات کی ٹائمنگ اور قانونی باریکیاں کتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں!

Post a Comment

Previous Post Next Post